ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / یوپی میں کانگریس کو دھچکا، بی جے پی میں شامل ہوئیں ریتا بہوگنا جوشی؛ مودی کی شان میں قصیدہ خوانی، کہا،فیصلہ آسان نہ تھا

یوپی میں کانگریس کو دھچکا، بی جے پی میں شامل ہوئیں ریتا بہوگنا جوشی؛ مودی کی شان میں قصیدہ خوانی، کہا،فیصلہ آسان نہ تھا

Fri, 21 Oct 2016 02:09:22    S.O. News Service

لکھنؤ، 20اکتوبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)کئی دہائیوں سے کانگریس کے لئے جی جان سے کام کرنے والی کانگریس کی لیڈر ریتا بہوگنا جوشی آج بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل ہو گئیں۔ریتا بہوگنا جوشی کو گاندھی خاندان، خاص طور پر سونیا گاندھی کا قریبی سمجھا جاتا رہا ہے۔بی جے پی میں رسمی طور پر آنے کا اعلان کرتے وقت ریتا کے ساتھ بی جے پی صدر امت شاہ بھی موجود تھے۔ریتا نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی  دہشت گردی سے لڑنے کا بانی ہے،کانگریس پارٹی حکومت اور فوج کا ساتھ دینے کے بجائے تنقید کرنے لگی،ایسا لگتا ہے کہ لوک سبھا انتخابات کے بعد بھی کانگریس پارٹی نے سبق نہیں لیا۔اس موقع پر ریتا بہوگنا نے کہا کہ میں آج ہی کانگریس سے استعفیٰ دے کربی جے پی میں شامل ہوئی ہوں،طویل غوروفکر کے بعد میں نے یہ فیصلہ کیا ہے،تقریبا 24سال میں نے کانگریس میں گزارے، درمیان میں کچھ وقت ضرور ایس پی میں رہی،بی جے پی میں آنے کا فیصلہ میں نے کافی سوچ سمجھ کر لیا ہے،میرے لئے یہ فیصلہ آسان نہیں تھا۔انہوں نے سرجیکل اسٹرائیک کو ملک کی فوج کے ساتھ ساتھ حکومت کی بھی کامیابی بتایا۔ریتا نے کہا کہ جب کانگریس پارٹی ہی سرجیکل اسٹرائیک کو قبول نہیں کرتے ہوئے ثبوت مانگ رہی ہے، ایسے میں ملک کی ساکھ بیرون ملک میں متاثر ہوئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جب تک کانگریس کی کمان سونیا گاندھی کے پاس تھی، جب تک سب ٹھیک تھا،راہل گاندھی کے ہاتھ میں کمان آنے کے بعد پارٹی آگے نہیں بڑھ پا رہی ہے۔قابل ذکر ہے کہ ریتا بہوگنا جوشی یوپی کانگریس کی صدر رہ چکی ہیں۔اتنا ہی نہیں کانگریس پارٹی میں خواتین کانگریس کی بھی ریتا بہوگنا جوشی صدر رہ چکی ہیں،حالانکہ کانگریس نے ابھی تک اس بارے میں صاف طور پر کچھ نہیں کہا ہے۔بی جے پی کے ذرائع نے اپنا نام خفیہ رکھنے کی شرط پر کہا کہ سابق وزیر اعلی ہیم وتی نندن بہوگنا کی بیٹی ریتا اور پارٹی لیڈران کے درمیان بات چیت ہوئی تھی۔کہا جاتا ہے کہ وہ شیلا دکشت کو کانگریس کا وزیر اعلی کے عہدے کا امیدوار پیش کرنے کے کانگریس کی اعلی قیادت کے فیصلے کو لے کر ناخوش ہیں اور راج ببر کو اتر پردیش پارٹی سربراہ بنائے جانے کے بعد وہ خود کو زیادہ نظرانداز محسوس کر رہی تھیں۔ان کا خیال ہے کہ ایک برہمن وزیر اعلی چہرے کے طور پر پیش کرنے کے لئے ان میں شیلا دکشت سے زیادہ استحقاق ہے۔ریتا بہوگنا کے بھائی اور اتراکھنڈ کے سابق وزیر اعلی وجے بہوگنا چند ماہ قبل ہی بی جے پی میں شامل ہوئے تھے،فی الحال ریتا لکھنؤ کی کینٹ سیٹ سے ممبر اسمبلی رہی ہیں۔


Share: